شوبز انڈسٹری میں کئی مرتبہ جنسی ہراسانی کا سامنا کرنا پڑا:عائشہ عمر

شوبز انڈسٹری میں کئی مرتبہ جنسی ہراسانی کا سامنا کرنا پڑا:عائشہ عمر




Sexual-harassment-in-the-showbiz-industry-many-times-Ayesha-Omar
لاہور: پاکستان کی نامور اداکارہ عائشہ عمر نے بھی ایک انٹرویو کے دوران انکشاف کیا ہے کہ انہیں پاکستانی انڈسٹری میں کئی مرتبہ جنسی ہراسانی کا سامنا کرنا پڑا۔
اداکارہ حال ہی میں احسن خان کے شو , ول نائٹس ود احسن ، میں انٹرویو کے دوران احسن خان نے اداکارہ سے می ٹو مہم پر ان کی رائے پوچھی تو اس پر اداکارہ کا کہنا تھا کہ یہ مہم صرف خواتین کے لیے ہی نہیں مردوں کے لیے بھی بےحد ضروری ہے۔
یہ بھی پڑھیں
موقع ملا تو ارطغرل غازی جیسے کسی ڈرامے میں حلیمہ سلطان کا کردار ادا کروں گی
عائشہ عمر کا کہنا تھا کہ یہ مہم بےحد ضروری ہے کیوں کہ اس کی وجہ سے وہ تمام خواتین اور مرد سامنے آئے جنہیں کبھی جنسی ہراساں کیا گیا اور وہ کچھ کہہ نہیں سکے، ہماری اپنی انڈسٹری میں بہت سی خواتین اور مردوں کو جنسی ہراسانی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

اداکارہ نے مزید لکھا کہ کوئی بھی جسے زندگی میں کسی لمحے یہ ہمت ملے کہ اسے سامنے آکر ایسے تجربات بتانے ہو یہ یقیناً قابل تعریف ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ یقیناً بہت سے لوگ اس مہم کا غلط استعمال بھی کررہے ہوں گے لیکن اس کا یہ مطلب بالکل نہیں کہ یہ مہم غلط ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ 'میں سمجھ سکتی ہوں کہ لوگوں کو کیسا لگتا ہوں گا کیوں کہ میں خود اپنی زندگی اور کیریئر میں جنسی ہراسانی کا سامنا کرچکی ہوں، مجھ میں ہمت نہیں کہ میں ان واقعات کے بارے میں ابھی بات کروں، شاید کبھی ایسا وقت آیا تو میں بھی اس حوالے سے بات کروں گی، اس لیے میں ان سب کا سپورٹ کرتی ہوں جو سامنے آئے اس حوالے سے بات کی۔
یہ بھی پڑھیں
اداکارہ کے مطابق اگر آپ کو جنسی ہراسانی کا سامنا کرنا پڑا ہو تو اس کے بارے میں بات کرنے کا کوئی وقت نہیں، آپ ایک سال، 20 سال بعد یا 2 منٹ بعد بھی سامنے آکر اس کے خلاف آواز اٹھا سکتے ہیں۔

می ٹو مہم کا آغاز دنیا بھر میں 2017 میں ہوا جب ہولی وڈ کی نامور خواتین نے سامنے آکر پروڈیوسر ہاروی وائنسٹن پر جنسی ہراساں کرنے اور ریپ کرنے کے الزامات لگائے۔
جس کے بعد ایک کے بعد ایک خواتین اس مہم کا استعمال کرکے اپنے تلخ تجربات کے ساتھ سامنے آئیں۔

یاد رہے کہ عائشہ عمر اور احسن خان ,رہبرا،  نامی فلم میں ایک ساتھ کام کررہے ہیں جس کی رواں سال ریلیز کا امکان ہے۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے