جسٹس عیسی سے منی ٹریل مانگنے والے پہلے اپنا حساب دیں :بلاول بھٹو

جسٹس عیسی سے منی ٹریل مانگنے والے پہلے اپنا حساب دیں :بلاول بھٹو



Those-who-ask-for-money-trail-from-Justice-Issa-should-first-give-their-account-Bilawal-Bhutto
 اسلام آباد :پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ این آر او، این آر او کہہ کر اصل این آر او کو چھپانے کی کوشش کی جارہی ہے جو زیر حراست بھارتی جاسوس کلبھوشن کو دیا گیا، بل جو غیر متنازع ہوسکتا تھا حکومت نے متنازع کردیا، حکومتی دھمکیوں اورپروپیگنڈے سے اپنے حقوق سے دستبردارنہیں ہوں گے جبکہ انہوں نے اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کا بھی مطالبہ کردیا ۔

راجہ پرویز اشرف،ڈاکٹر نفیسہ شاہ ،پلوشہ خان کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ایف اے ٹی ایف کے لیے درکار قانون سازی کے لیے قومی اسمبلی اور سینیٹ کو اعتماد میں نہیں لیا گیا، جس کو کشمیر کا سفیر بننا تھا آج کلبھوشن کا وکیل ہے، ہمیں این آر او، این آر او کہتے ہیں۔

چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ ایک بل جو غیر متنازع ہوسکتا تھا آپ نے متنازع کردیا اور پی ٹی آئی اپنے آرڈیننس کو پاس کرانے کے لیے ہم سے بات کررہی تھی۔ حکومت جھوٹ کی بنیاد پر چاہتی ہے کہ ایف اے ٹی ایف کو نیب کے ساتھ نتھی کیا جائے،یہ لوگ ایف اے ٹی ایف کواستعمال کرکے اپنے آپ کوآمرانہ طاقت دے رہے ہیں۔ حکومت کے جھوٹ اور آمرانہ کوشش کے باوجود ملک کے لیے ایف اے ٹی ایف قانون سازی میں ساتھ ہیں۔ حکومتی انا اورآمرانہ سوچ کی وجہ سےمسائل جنم لےر ہےہیں۔ حکومتی رویہ عوامی مسائل میں اضافہ کریگا۔ ایف اےٹی ایف کے مطالبات پاکستان سے جڑے ہیں، وہ ہم پورے کریں گے۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ جسٹس مقبول باقر کے فیصلے کے بعد نیب اور جمہوریت ساتھ نہیں چل سکتی۔ پاکستان اور عمران خان ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے، عمران خان کے دورِ حکومت میں ملک میں سب سے زیادہ کرپشن میں اضافہ ہوا جبکہ وہ نیب کو استعمال کرکے اپوزیشن جماعتوں کے سیاست دانوں سے انتقام لے رہے ہیں۔

بلاول بھٹوزرداری نے کہا کہ آپ لوگ میری اوراپوزیشن کی آوازبندنہیں کرسکتے۔ آصف زردار ی نےشروع میں کہاتھاکہ نیب اورمعیشت ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے۔ ہم کسی این آراومیں دلچسپی نہیں رکھتے۔ حکومت چاہتی ہے اپوزیشن ایوان میں نہ بولے۔انہوں نے کہا کہ واضح کرنا چاہتاہوں نیب آرڈیننس پی ٹی آئی لے کرآئی ہے۔ حکومت نے آج جوکیاوہ سمجھ سے بالاترہے۔ حکومتی دھمکیوں اورپروپیگنڈے سے اپنے حقوق سے دستبردارنہیں ہوں گے۔

انہوں نے وزیر اعظم کے معاون خصوصی کو مخاطب کرکے کہا کہ شہزاد اکبر کو پہلے اپنے اثاثوں کا حساب دینا چاہیے، شہزاداکبرنے 2 سال بعد اپنی جائیداد ظاہرکی ۔اگر قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ سے ثبوت مانگے رہے ہیں تو خود بھی جواب دیں کہ 2 سال سے اپنی غیرملکی جائیداد کیوں ڈکلیئر نہیں کی تھی۔چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ کابینہ میں بیشتر افراد پر آمدن سے زائد اثاثوں کا کیس بنتا ہےاور وزیر اعظم عمران خان آج بھی اپنے مشیروں کی کرپشن کا تحفظ کررہے ہیں۔ عمران خان نے خود سب سے زیادہ ایمنسٹی لیں اور دیں جس کی مثال ماضی میں نہیں ملتی، مالم جبہ، بی آرٹی، چینی، آٹا چوری پر این آر او دلوایاگیا۔

انہوں نے کہا کہ دو سال ہوگئے ہیں، عمران خان نے کوئی ایک ایسا کام نہیں کیا جو عوامی مفاد میں ہو جبکہ ملک کی تمام اپوزیشن جماعتیں سلیکٹڈ حکومت کے خلاف ایک پیچ پر ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی الزامات کا جواب عدالت میں دے رہے ہیں جبکہ سلیکٹڈ، کٹھ پتلی وزیر اور وزیراعظم اسٹے آرڈ کے پیچھے چھپ رہے ہیں۔ پاکستانیوں کے حقوق کے خلاف کوئی بھی قانون سازی نہیں ہونے دیں گے۔

 بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ اسپیکر نے جو کردار ادا کیا وہ مناسب نہیں تھا لیکن پیپلز پارٹی جب تک ایوان کا حصہ ہے حکومت کی آمرانہ کوشش سے عوام کو آگاہ کریں گے۔ بلاول بھٹو زرداری نے اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن کی اے پی سی میں اسپیکر کے خلاف تحریک عدم اعتماد پربات کروں گا ، اسپیکر کے کردارنے ہمارے موقف کی تائیدکردی، حکومت چاہتی تھی کہ اپوزیشن ان بلزپربات نہ کرے، ہم کوشش کریں گے اپوزیشن جماعتیں ایک پیج پرآجائیں، ایک غیرمتنازع بل کوبھی متنازع بنادیاگیا ۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ اسلام کے نام پرکسی کو پڑھنے سے کیسے روکا جاسکتاہے۔ کتابوں پرکیسے پابندی لگاسکتے ہیں۔ پنجاب اسمبلی نے جوقانون سازی کی اس پرنظرثانی کی ضرورت ہے۔حکومت پب جی کوسنسرکرنیکی کوشش میں مصروف ہیں۔ سنسرشپ پاکستان کے مفادمیں نہیں۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے