ملک پر لیڈر نہیں ایک کٹھ پتلی راج کر رہا ہے:بلاول بھٹو

ملک پر لیڈر نہیں ایک کٹھ پتلی راج کر رہا ہے:بلاول بھٹو



Not-a-leader-but-a-puppet-is-ruling-the-country-Bilawal-Bhutto
اسلام آباد :پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ پاکستان کے عوام ایک پیج پر ہیں، سلیکٹڈ عمران خان کو جانا ہوگا، لیڈر نہیں ایک کٹھ پتلی راج کر رہا ہے، سلیکٹڈ حکومت کو مسلط کرنے کا نتیجہ سامنے ہے، جتنا نقصان موجودہ سلیکشن میں ہوا اس سے پہلے پاکستان کو نہیں ہوا۔جس نے کشمیر کا سفیربننا تھا وہ آج کلبھوشن کا وکیل بن چکا ہے، دال میں کچھ کالا نہیں تو کلبھوشن کا آرڈیننس خفیہ رکھنے کی کیا ضرورت تھی؟

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ   کلبھوشن جادھو کا آرڈیننس قومی اسمبلی سے کیوں چھپایا گیا؟ عالمی عدالت کا دائرہ اختیار مانیں لیکن اس کا یہ مطلب نہیں پاکستان کے قانون کو سامنے نہ رکھیں۔  آرڈیننس جاری کرکے کلبھوشن کو این آر او دیا گیا،  آج کے ’نئے شریف الدین پیرزادہ‘ کہتے ہیں اپوزیشن سے بات کرنے کی ضرورت نہیں، جب کہ آئین میں لکھا ہے کہ قومی اسمبلی کے اجلاس میں آرڈیننس فوری طور پر پیش کرنا ہے، لیکن انھوں نے قومی اسمبلی کا اجلاس جاری ہونے کے باوجود آرڈیننس جاری کرایا۔

بلاول کا کہنا تھا کہا کہ انھوں نے ایک شخصیت کےلیے مخصوص قانون بنانے کی کوش کی ہے،کسی شخصیت کے لیے مخصوص قانون سازی نہیں ہوسکتی، آرڈیننس کے اسٹیٹمنٹ میں کلبھوشن جادھو کا نام تک لیا گیا ہے، دال میں کچھ کالا نہیں تھا تو آرڈیننس کو ہم سے اور پارلیمنٹ سے کیوں چھپایا گیا۔

 ان کا کہنا تھا کہ یہ ٹھیک ہے کہ  قانون میں کہیں نہیں لکھا کہ اپوزیشن سے بات کرنی ہے، لیکن اپوزیشن سے بات نہیں کرنی تو چلیں پھر قانون پاس کرکے دکھائیں، آرڈیننس ایوان میں نہ لاکر آئین کی خلاف ورزی کی گئی ہے اور  پیپلزپارٹی نے کبھی ملک کے مفاد پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا نہ ہی عالمی قوانین پر، اگر صرف عالمی عدالت کے لیے یہ کام کررہے تھے تو وہ کام تو آرڈیننس سے ہوگیا تھا، عدالت میں درخواست کیوں دی گئی؟

گزشتہ انتخابات کے حوالے سے بلاول کا کہنا تھا کہ آج کا دن یومِ سیاہ کے طور پر منا رہے ہیں،کورونا نہ ہوتا تو 25 جولائی کو یومِ سیاہ منانے کے لیے سڑکوں پر ہوتے، سلیکٹڈ حکومت کو مسلط کرنے کا نتیجہ سامنے ہے،جس طریقے سے سلیکشن کروائی گئی ہے ہمیں سب یاد ہے۔

بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ فارم 45 کی اہمیت قوم کو پتہ چل گئی ہے، جس طریقے سے ہمارے ادارے 2018ء کے الیکشن میں متنازع ہوئے اس سے پہلے کبھی نہیں ہوئے، جتنا نقصان موجودہ سلیکشن ہوا ہے اس سے پہلے پاکستان کو ایسا نقصان نہیں ہوا، الیکشن کے نتائج میں کوئی شفافیت نہیں تھی، سلیکٹڈ عمران نے جو ملک اور معیشت کو نقصان دیا ہے وہ آپ کے سامنے ہے، اگر سلیکٹڈ رہے گا تو ہمارے معاشی حالات مزید برے ہو جائیں گے۔

 انہوں نے مزید کہا کہ ملک پر لیڈر نہیں ایک کٹھ پتلی راج کر رہا ہے اس کا نقصان بہت زیادہ ملک کو ہو رہا ہے، عمران خان کو لانے کا مقصد کرپشن فری پاکستان بنانا تھا، عوام سے پوچھیں کہ نئے پاکستان میں کتنی کرپشن ہو رہی ہے، ٹرانسپیرنسی انٹرنیشل کی رپورٹ کے مطابق موجودہ حکومت نے کرپشن کے تمام ریکارڈز توڑ دیے ہیں اور ہر کرپشن منصوبے کو عمران خان نے تحفظ دلوایا ہے۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے