بھارت کوروناوائرس سے متاثرہ تیسرا بڑا ملک بن گیا، دنیا بھر میں ہلاکتیں 5 لاکھ 35 ہزار ہو گئیں

بھارت کوروناوائرس سے متاثرہ تیسرا بڑا ملک بن گیا، دنیا بھر میں ہلاکتیں 5 لاکھ 35 ہزار ہو گئیں




India-has-become-the-third-largest-country-infected-with-the-coronavirus-with-535000-deaths-worldwide
نئی دہلی :بھارت  کوروناوائرس سے متاثرہ تیسرا بڑا ملک بن گیا  جب کہ دنیا بھر میں کورونا وائرس سے اب تک ایک کروڑ 14 لاکھ 83 ہزار سے زائد افراد وائرس کا شکار ہو چکے ہیں اور 5 لاکھ 35 ہزار افراد موت کے منہ میں جا چکے ہیں۔

بھارت کی وزارت صحت کے مطابق پیر کو گزشتہ 24 گھنٹے کے دوران 23 ہزار سے زائد کیسز رپورٹ ہوئے جس کے بعد بھارت میں مجموعی کیسز کی تعداد 6 لاکھ 97 ہزار 413 تک پہنچ گئی۔جنوری میں ملک میں پہلا کیس سامنے آنے کے بعد بھارت میں اب تک تقریباً 20 ہزار افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔بھارت میں آگرہ اور ملک کے دیگر حصوں میں کورونا وائرس کے متاثرین کی تعداد میں اضافے کے بعد تاج محل کھولنے کا فیصلہ مؤخر کردیا گیا۔

ادھر آسٹریلیا میں دو سب سے زیادہ آبادی والی ریاستوں نیو ساؤتھ ویلز اور وکٹوریہ کی سرحدوں کو 100سال میں پہلی مرتبہ غیر معینہ مدت تک کے لیے بند کردیا گیا ہے۔دنیا بھر میں سب سے زیادہ متاثرہ ملک امریکا میں گزشتہ ہفتے 32 ریاستوں میں کیسز میں اضافے کے باوجود پابندیوں میں نرمی پر تنقید کی جارہی تھی۔ان دو ریاستوں کے درمیان سرحد کو آخری مرتبہ 1919 میں ہسپانوی فلو کے دوران عوام کی نقل و حرکت روکنے کے لیے بند کیا گیا تھا۔

حالیہ عرصے میں وکٹوریہ کے دارالحکومت میلبرن میں کورونا وائرس کے کیسز بڑھنے کے بعد میلبرن کے 30 نواحی علاقوں میں سماجی فاصلے کو برقرار رکھنے کی ہدایت کی گئی جبکہ 9 ہاؤسنگ ٹاورز میں مکمل لاک ڈاؤن کردیا گیا ہے۔ وکٹوریہ میں ایک دن میں 127نئے کیسز رپورٹ ہوئے اور جو وبا کے آغاز کے بعد ریاست میں ایک دن میں رپورٹ ہونے والے کیسز کی سب سے بڑی تعداد ہے۔اس کے علاوہ ایک موت بھی ہوئی جو گزشتہ دو ہفتے کے دوران ہونے والی پہلی موت ہے اور اب تک آسٹریلیا میں مرنے والوں کی تعداد 105 ہو گئی ہے۔

ادھر قطر میں کورونا کے کیسز کی تعداد ایک لاکھ سے تجاوز کر گئی ہےملک میں گزشتہ 24 گھنٹے کے دوران کورونا وائرس کے 546 نئے کیسز رپورٹ ہوئے جبکہ 5 اموات بھی ہوئیں، قطر میں اب تک مجموعی طور پر 128 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

دنیا بھر میں سب سے زیادہ متاثرہ ملک، امریکا کی 32 ریاستوں میں کیسز بڑھنے کے باوجود ایریزونا اور ٹیکساس کی ریاستوں میں پابندیوں میں کی جانے والی نرمی کو حکام نے تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔امریکا میں مختلف ریاستوں کو کھولنے کے احکامات کو اب دو ماہ کا عرصہ گزر چکا ہے اور ماہرین کا کہنا تھا کہ امریکا نے لاک ڈاؤن اور پابندیوں میں نرمی میں جلدی کی۔

ریاست فلوریڈا میں اتوار کو 9 ہزار 999 کیسز رپورٹ ہوئے تھے جس کے بعد فلوریڈا میں متاثرہ افراد کی تعداد 2 لاکھ سے زائد ہو گئی۔میامی کے میئر فرانسز سواریز نے کہا کہ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ہم نے لاک ڈاؤن دوبارہ کھولنے کی درخواست کی تو لوگوں نے ایک دوسرے سے ایسے ملنا شروع کردیا جیسے کہ وائرس کا کوئی وجود ہی نہیں ہے۔

ٹیکساس میں بھی مقامی لیڈر نے کہا کہ ریاست کو کھولنے میں جلدی کی گئی جس کی وجہ سے ہوسٹن میں حالیہ عرصے میں ہسپتالوں میں کیسز میں اضافہ ہوا اور دباؤ بڑھا ہے۔امریکا میں اب تک 28 لاکھ 89 ہزار سے زائد افراد وائرس سے متاثر اور ایک لاکھ 30 ہزار ہلاک ہو چکے ہیں۔

ادھر کینیا کے صدر اتھورو کینیاتا نے ملک میں کورونا وائرس کے باعث لگائی گئی پابندیاں نرم کرنے کا اعلان کردیا۔انہوں نے پابندیوں میں نرمی کا اعلان کرتے ہوئے  یکم اگست سے کینیا میں بین الاقوامی فلائٹس کی بحالی کا بھی اعلان کردیا گیا۔

یورپ کے مشہور سیاحتی مقام سوئٹزرلینڈ میں منہ ڈھانپنے کو لازمی قرا دے دیا گیا۔حکومت کی جانب سے جاری احکامات کے مطابق مسافروں کو ٹرینوں، ٹرامز، بسوں، ریلوے اور فیریز میں عوام کو ماسک سے لازمی منہ ڈھانپنا ہو گا۔


ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے