شیخوپورہ،گندم کٹائی پرفائرنگ، ایک ہی خاندان کے 9افرادقتل

شیخوپورہ،گندم کٹائی پرفائرنگ، ایک ہی خاندان کے 9افرادقتل




Sheikhupura-firing-on-wheat-harvest-killing-9-members-of-the-same-family
شیخوپورہ: کھیتوں میں کام کے دوران گندم کی کٹائی کے معاملے پر 2 گروپوں میں فائرنگ کے تبادلے میں والدین اور بیٹے سمیت ایک ہی خاندان کے9 افراد جاں بحق ہوگئے۔واقعہ میں تین افراد زخمی بھی ہوئے قاتل اور مقتولین آپس میں قریبی عزیز بھی ہیں جاں بحق افراد کے لواحقین نے ملزمان پارٹی کے گھروں کو نذر آتش کردیا ۔

پولیس نے جاں بحق افراد کی لاشوں کو پوسٹ مارٹم کے لیے ڈی ایچ کیو ہسپتال منتقل کردیا ملزمان کی گرفتاری کے لیے ٹیمیں تشکیل دیکر علاقہ کی ناکہ بندی کردی گئی ہے، واقعہ شیخوپورہ کے نواحی علاقہ کھاریانوالا میں پیش آیا جہاں گزشتہ ہفتے بچوں کے جھگڑے پر دو گروپوں میں معمولی تلخ کلامی ہوئی تھی جسکی دو روز قبل علاقہ معززین نے دونوں فریقوں میں صلح بھی کرادی تھی اور معاملہ رفع دفع ہوگیا تھا مگر سولی جٹ گروپ نے دل سے رنجش ختم نہ کی اور آج دو مختلف مقامات پر خادم جٹ گروپ کے 9 افراد کو فائرنگ کرکے موت کے گھاٹ اتار دیا اور فرار ہو گئے۔

 ریسکیو 1122 ایدھی اور پولیس ذرائع کے مطابق موٹر سائیکل سواروں نے کھیتوں اور بازاروں میں مخالف گروپ کے افراد کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر فائرنگ کرکے موت کے گھات اتارا۔ جاں بحق افراد میں ماں باپ اور بیٹے سمیت 9 افراد شامل ہیں جن کی شناخت علی شان، یاسین بی بی، خادم، بشیران بی بی، کے نام سے ہوئی ہے وحید، طفیل، اکبر علی، اللہ دتہ بھی جاں بحق افراد میں شامل ہیں جبکہ قربان اور رمضان زخمی ہیں جہنیں ہسپتال منتقل کرکے طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔

 واقعہ کی اطلاع ملتے ہی ڈی پی او شیخوپورہ غازی صلاح الدین پنجاب فرانزک ٹیم اور پولیس کی بھاری نفری کے ہمراہ جاے وقوعہ پر پہنچ گئے اور واقعہ پر افسوس کا اظہار کیا اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوے بتایا کہ دونوں گروپ قریبی عزیز ہیں اور ان کی کوئی سابقہ دشمنی بھی نہیں ہے ۔ڈی پی اوشیخوپورہ نے قاتلوں کوگرفتارکرنیکا حکم دیا ہے۔

وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے شیخوپورہ کے علاقے میں 8 افراد کے قتل کے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے آر پی او شیخوپورہ سے رپورٹ طلب کر لی ہے۔

 وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے ملزمان کو جلد گرفتار کرنے کا حکم دیتے ہوئے ہدایت کی کہ قتل کے واقعہ میں ملوث ملزمان کو قانون کی گرفت میں لا کر مزید کارروائی کی جائے اور مقتولین کے لواحقین کو ہر قیمت پر انصاف فراہم کیا جائے۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے