لندن :ہولی وڈ اداکارہ 34 سالہ امبر ہرڈ کی سابق ملازمہ نے حیران کن طور پر ان کے خلاف اور اداکارہ کے سابق شوہر کے حق میں بیان دے دیا۔برطانوی اخبار دی گارجین کے مطابق امبر ہرڈ کی سابق پرسنل سیکریٹری نے لندن کی عدالت میں جونی ڈیپ کی جانب سے 'دی سن' اخبار کےخلاف دائر مقدمے میں اپنا بیان ریکارڈ کرواتے ہوئے اپنی سابق مالکن کے خلاف بیان جمع کروا دیا۔
رپورٹ کے مطابق امبر ہرڈ کی سابق پرسنل سیکریٹری کیٹ جیمز نے جونی ڈیپ کی جانب سے برطانوی اخبار دی سن کے خلاف دائر کیے گئے ہتک عزت کے کیس میں بیان جمع کرواتے ہوئے کہا کہ انہوں نے کبھی بھی اداکار کو اپنی سابق بیوی پر چلاتے یا تشدد کرتے نہیں دیکھا۔
یہ بھی پڑھیں
امبر ہرڈ کی سیکریٹری کے مطابق انہوں نے کافی وقت تک اداکارہ کی ذاتی سیکریٹری کی خدمات سرانجام دیں مگر انہوں نے اپنی ملازمت کے دوران ان پر شوہر کو چلاتے ہوئے نہیں دیکھا، وہ نہیں مانتیں کہ جونی ڈیپ نے امبر ہرڈ پر تشدد کیا ہوگا۔ بیان کو عدالت نے قبول کرتے ہوئے اسے اخبار کےخلاف کیس میں اہم ثبوت قرار دیا۔
جونی ڈیپ نے اپریل 2018 میں برطانوی اخبار 'دی سن‘ کے خلاف جھوٹا مضمون لکھنے پر لندن کی عدالت میں مقدمہ دائر کردیا تھا۔’دی سن‘ نے اپنے مضمون میں جونی ڈیپ کو ’بیوی پر تشدد کرنے والا‘ شخص قرار دیتے ہوئے لکھا تھا کہ کس طرح جونی ڈیپ نے اپنی اہلیہ کو بدترین تشدد کا نشانہ بنایا۔مضمون میں جہاں جونی ڈیپ کو بیوی پر تشدد کرنے والے شخص کے طور پر پیش کیا گیا، وہیں ان کی سابق اہلیہ امبر ہرڈ کو ایک مظلوم خاتون کے طور پر بھی پیش کیا گیا تھا۔مضمون ایک ایسے وقت میں شائع کیا گیا، جب ہولی وڈ میں خواتین کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں کی مہم ’می ٹو‘ اپنے عروج پر تھی۔
اخبار کی جانب سے مضمون شائع کیے جانے کے بعد جونی ڈیپ نے اخبار کے خلاف برطانوی عدالت میں مقدمہ دائر کرتے ہوئے اخبار کے خلاف 2 لاکھ یورو ہرجانے کا دعویٰ بھی دائر کیا تھا اور اس کی متعدد سماعتیں ہوچکی ہیں۔
اسی کیس کی سماعت کے دوران جونی ڈیپ کے ساتھ ماضی میں رومانوی تعلقات میں رہنے والی دو اداکاراؤں نے 13 مئی کو ان کے حق میں بیان عدالت میں جمع کروایا تھا۔فرانسیسی نژاد گلوکارہ و اداکارہ 47 سالہ ونیسا پیراڈائیز اور امریکی اداکارہ و پروڈیوسر 48 سالہ ونونا رائیڈر نے جونی ڈیپ کے حق میں بیان جمع کروایا تھا۔
دونوں اداکاروں کے بیانات کو جونی ڈیپ کے وکلا نے عدالت میں جمع کروایا تھا جن میں دونوں نے جونی ڈیپ کی شخصیت، ان کی عادتوں اور ان کے کردار پر کھل کر بات کرتے ہوئے انہیں شریف انسان قرار دیا تھا۔
امریکی اداکارہ و پروڈیوسر ونونا رائیڈر نے بھی جونی ڈیپ کے حق میں بیان دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے بھی اداکار کے ساتھ کئی سال گزارے مگر انہوں نے کبھی بھی اداکار کو غصے کی حالت میں نہیں دیکھا۔
اخبار کے خلاف جونی ڈیپ کے اس مقدمے کی اگلی سماعت جولائی میں ہوگی اور عدالت نے امبر ہرڈ کی سیکریٹری کی جانب سے جمع کرائے گئے بیانوں کو ثبوت کے طور پر آئندہ سماعتوں میں پیش کرنے کی اجازت دے دی۔
اسی حوالے سے برطانوی اخبار ڈیلی میل نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ اگرچہ عدالت نے امبر ہرڈ کی سیکریٹری کی جانب سے جمع کرائے گئے بیان کو ثبوت کے طور پر پیش کرنے کی اجازت دی، تاہم عدالت نے اداکارہ کی سابق سیکریٹری کی جانب سے بیان کی گئی کچھ باتوں کو غیر ضروری قرار دیا۔
سماعت کے دوران جج نے امبر ہرڈ کی سیکریٹری کی جانب سے اداکارہ کی نشے کی عادت کے حوالے سے بیان کی گئی باتوں کو غیر ضروری دیا۔
امبر ہرڈ کی سابق سیکریٹری نے اپنے بیان میں مزید لکھا تھا کہ انہوں نے ہمیشہ ہی اداکارہ کو شراب نوشی کرنے سمیت دیگر نشہ کرتے ہوئے بھی دیکھا جب کہ وہ اپنے شوہر پر چلاتی بھی تھیں اور انہیں نامناسب نام دے کر ان کی تذلیل بھی کرتی تھیں۔
رپورٹ کے مطابق عدالت میں امبر ہرڈ اور جونی ڈیپ کے سابق کار مکینک نے بھی بیان جمع کروایا مگر عدالت نےان کے بیان کو غیر ضروری قرار دیا۔جوڑے کے سابق مکینک نے بھی اپنے بیان میں کہا تھا کہ انہوں نے اداکارہ امبر ہرڈ کو نشہ کرتے ہوئے دیکھا، وہ شراب پینے سمیت دیگر قسم کا نشہ کرتی تھیں جب کہ وہ اپنے شوہر کو ہمیشہ طعنے بھی دیا کرتی تھیں۔مکینک کے مطابق امبر ہرڈ اپنے شوہر کو موٹے، نکمے اور فالتو جیسے ناموں سے پکارتی تھیں، تاہم عدالت نے مکینک کے بیان کو غیر ضروری قرار دیا۔
خیال رہے کہ جونی ڈیپ پر اپنی اہلیہ اداکارہ امبر ہرڈ پر تشدد کرنے کا الزام بھی ہے تاہم انہوں نے بیوی کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے ان کےخلاف ہرجانے کا دعویٰ بھی دائر کر رکھا ہے۔
تشدد کے الزامات کے بعد جونی ڈیپ اور امبر ہرڈ کے درمیان 2016 میں طلاق ہوگئی تھی اور بعد ازاں جونی ڈیپ نے امبر ہرڈ پر جھوٹے الزامات لگانے پر مقدمہ بھی دائر کردیا تھا۔






0 تبصرے