
ملتان : ملتان کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ نے توہین مذہب کے الزام میں گرفتار بہاالدین ذکریا یونیورسٹی کے سابق لیکچرار جنید حفیظ کو سزائے موت سنا دی۔
فیصلہ ملتان کی سینٹرل جیل میں سنایا گیا جس کے مطابق جنید حفیظ پر توہین مذہب کے الزامات ثابت ہوچکے ہیں۔ لہذا دفعہ 295 سی کے تحت انہیں سزائے موت سنائی جاتی ہے۔
فیصلے میں جنید حفیظ کو توہین مذہب کی دفعہ 295 بی کے تحت عمرقید، ایک لاکھ روپے جرمانہ اور 295 اے کے تحت 5 لاکھ جرمانہ اور 10 سال قید کی سزا بھی سنائی گئی۔
جنید حفیظ کو مارچ 2013 میں سوشل میڈیا پر توہین آمیز پوسٹ کے الزام پر لاہور سے گرفتار کیا گیا تھا۔ ان پر ملتان میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔
کیس کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ مئی 2014 میں جنید حفیظ کا کیس لڑنے والے وکیل راشد رحمان کو نامعلوم افراد نے ان کے دفتر میں فائرنگ کر کے قتل کردیا تھا۔
جنید کے والد سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کے نام خط لکھ کر رہائی دلوانے کی اپیل کرچکے ہیں۔
انہوں نے کہا تھا کہ ان کا بیٹا توہین مذہب کے جھوٹے الزام میں گزشتہ 6 برس سے سینٹرل جیل ملتان کے ایک سیل میں قید تنہائی کاٹ رہا ہے۔
سابق چیف جسٹس کو لکھی گئی تحریری درخواست میں جنید حفیظ کے والدین نے کہا تھا کہ 'مختلف ججز کی منتقلی، استغاثہ کے گواہوں کی تاخیری حربے اور حساس نوعیت کا مقدمہ ہونے کی وجہ سے دفاع کے لیے مناسب قانون وکیل کی تلاش میں دشواریوں کے باعث ہمارا بیٹا ایک من گھڑت کیس میں انصاف کا منتظر ہے'

0 تبصرے