نیویارک: سابق شوہر کی جانب سے دائر کیا گیا ہتک عزت کا دعویٰ خارج کیا جائے۔ اداکارہ امبر ہیرڈ کی مقامی عدالت میں درخواست دائر ،بتایا گیا ہے کہ اداکارہ نے اپنی درخواست میں کہا ہے کہ جونی ڈیپ نے انہیں زبانی اور جسمانی تشدد اور ناروا سلوک کا نشانہ بنایا۔جونی ڈیپ نے سابق اہلیہ کے خلاف گزشتہ دسمبر میں اس وقت دعویٰ دائر کیا تھا جب امبر ہیرڈ نے سابق شوہر کے خلاف معروف امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ میں ایک مضمون لکھا تھا۔
امبر ہیرڈ کی جانب سے لکھے گئے طویل مضمون میں کئی الزامات عائد کیے گئے تھے اور دعویٰ کیا گیا تھا کہ انہیں ان کے سابق شوہر نے شادی سے قبل اور شادی کے دوران بدترین تشدد اور نامناسب سلوک کا نشانہ بنایا۔جس کے بعد کئی لوگوں نے جونی ڈیپ کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ جس کے بعد جونی ڈیپ کو متعدد پروڈکشن کمپنیوں نے فلموں سے نکال دیا تھا۔
امبر ہیرڈ نے ایک ایسے وقت میں جونی ڈیپ کے خلاف مضمون لکھا تھا جب ہولی وڈ میں ’می ٹو مہم‘ زوروں پر تھی۔اس مضمون سے قبل ہی اداکارہ نے 2016 میں جونی ڈیپ پر تشدد کا الزام عائد کرکے ان سے علیحدگی اختیار کرلی تھی۔جونی ڈیپ نے امبر ہیرڈ سے 2015 میں کی اور وہ بھی مشکل سے 2 سال تک قائم رہی اور دونوں میں 2017 میں طلاق ہوئی تھی۔
واشنگٹن پوسٹ میں لکھے گئے مضمون میں انہوں نے دعویٰ کیا تھا جونی ڈیپ شراب نوشی کے بعد انہیں تشدد کا نشانہ بناتے تھے۔امبر ہیرڈ کا کہنا تھا کہ جونی ڈیپ کے تشدد سے انہیں لگتا تھا کہ وہ انہیں قتل کرنا چاہتے ہیں، کیوں کہ سابق شوہر نے انہیں کئی بار بالوں سے پکڑ کر ان کے چہرے کو بستر اور دیواروں سے لگایا تھا اور ان کے گلے کو بھی دبایا تھاتاہم جونی ڈیپ نے ہمیشہ ان الزامات کو مسترد کیا اور ساتھ ہی دعویٰ کیا کہ انہوں نے نہیں بلکہ امبر ہیرڈ نے انہیں تشدد کا نشانہ بنایا۔حال ہی میں رواں برس 13 مارچ کو یہ خبر سامنے آئی تھی کہ ایسے ثبوت سامنے آئے ہیں جن سے جونی ڈیپ پر لگائے گئے امبر ہیرڈ کے الزامات جھوٹے ثابت ہوں گے۔
امبر ہیرڈ کے وکیل کا کہنا تھا کہ جونی ڈیپ نے ان کی مؤکل کو نہ صرف شادی سے پہلے اور شادی کے دوران بلکہ شادی کے بعد بھی میڈیا کے ذریعے تشدد اور ناروا سلوک کا نشانہ بنایا۔ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ہتک عزت کے دعوے کے اس کیس کو لاس اینجلس کی عدالت منتقل ہونا چاہیے، جہاں پر جونی ڈیپ نے امبر ہیرڈ کو تشدد کا نشانہ بنایا۔دوسری جانب جونی ڈیپ کے وکیل کا کہنا تھا کہ انہیں امید ہے کہ جلد ہی ان کے مؤکل کا نام سابق اہلیہ پر تشدد کے کیس سے خارج کردیا جائے گا





0 تبصرے